30 اکتوبر 2026 - 16:28
حجاب کے معاملے پر ترکی اور آذربائیجان میں کشیدگی؛ اردوان پیچھے ہٹ گئے، علییف اجلاس سے غیر حاضر

آذربائیجان کے اسکولوں اور جامعات میں طالبات اور خواتین اساتذہ کے حجاب پر پابندی کے معاملے پر رجب طیب اردوان اور الہام علییف کے درمیان اختلافات شدت اختیار کر گئے۔ ترکی کے صدر نے کشیدگی بڑھنے سے روکنے کے لیے اپنا مؤقف نرم کیا اور اپنے مشیر کو بھی عہدے سے ہٹا دیا۔

اہل بیت (ع) نیوز ایجنسی ابنا کے مطابق، ترکی کے صدر رجب طیب اردوان اور ان کے آذربائیجانی ہم منصب الہام علییف کے درمیان آذربائیجان کے اسکولوں اور جامعات میں طالبات اور خواتین اساتذہ کے حجاب پر پابندی کے معاملے پر اختلافات نے بالآخر اردوان کو کشیدگی بڑھانے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا۔ صورت حال یہ تھی کہ دونوں ملکوں کے برادرانہ تعلقات ٹوٹنے کے دہانے پر دکھائی دے رہے تھے۔

لبنان کے اخبار الاخبار کی رپورٹ کے مطابق، اردوان کے مشیر اوکتائے سرال کا استعفیٰ اس پسپائی کی ایک اہم علامت تھا۔ سرال آذربائیجان کے فیصلے پر تنقید کی مہم میں پیش پیش تھے۔ انہوں نے اتوار کے روز ترکی کے صدر کی درخواست پر اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا۔ اس دوران بعض ذرائع ابلاغ کی رپورٹس میں کہا گیا تھا کہ علییف نے دونوں ملکوں کے تعلقات کو پہنچنے والے نقصان کی تلافی کے لیے مذاکرات سے پہلے سرال کو عہدے سے ہٹانے کی شرط رکھی تھی۔

اس مشیر نے اس سے قبل آذربائیجان سے اپنا فیصلہ واپس لینے کا مطالبہ کرتے ہوئے سوال اٹھایا تھا کہ آخر کون سا ضمیر اور احساسِ انصاف اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ مذہبی عقیدے کے تحت حجاب پہننے والی طالبہ کو اسکول کے دروازے پر روک دیا جائے؟

جواب میں علییف نے ترکی پر آذربائیجان کے اندرونی معاملات میں مداخلت کا الزام عائد کیا اور انقرہ سے کہا کہ وہ ایسے معاملات میں دخل نہ دے جن سے اس کا کوئی تعلق نہیں۔

معاملہ یہیں تک محدود نہیں رہا۔ آذربائیجان کی حکومت کے قریبی حلقوں میں انقرہ کے خلاف یہ الزامات بھی سامنے آئے کہ ترکی، علییف کے خلاف فوجی بغاوت کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور اس کے عزائم عثمانی دور کی طرح غلبہ حاصل کرنے کے ہیں۔

آذربائیجان کی حکومت نے 30 سے زائد ترک شخصیات کے خلاف بین الاقوامی وارنٹ گرفتاری بھی جاری کیے۔ ان میں ترکی کی جماعت رفاہِ مجدد کے سربراہ فاتح اربکان بھی شامل ہیں، جس کے ارکان پارلیمنٹ میں بھی موجود ہیں۔ ان شخصیات نے آذربائیجان کے حجاب سے متعلق فیصلے کی مذمت کی تھی۔

ترکی میں اردوان کی پسپائی پر تنقید

تاہم سرال کو عہدے سے ہٹانے کا فیصلہ ترکی میں ردعمل سے خالی نہیں رہا۔ فاتح اربکان نے اردوان پر الزام لگایا کہ انہوں نے علییف کے سامنے سر جھکا دیا ہے۔

بعض دیگر حلقوں کا بھی کہنا تھا کہ ترکی کے صدر ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں اخلاقی اور اقداری نوعیت کے دو معاملات میں شکست کھا چکے ہیں۔ پہلا معاملہ حکمران جماعت جسٹس اینڈ ڈیولپمنٹ پارٹی کے اعلیٰ عہدیداروں کی جانب سے سرمایہ کاری فنڈز میں شہریوں کی جمع پونجی کی چوری کا تھا، جبکہ دوسرا آذربائیجان کے ساتھ حجاب کے معاملے پر پیدا ہونے والا تنازع ہے۔

اسی حوالے سے جماعت ڈیموکریسی اینڈ ڈیولپمنٹ کے سربراہ علی باباجان نے اس واقعے کو ’’صدی کی سب سے بڑی چوری‘‘ قرار دیتے ہوئے اس کا تخمینہ 150 ارب ڈالر لگایا ہے۔

ایسا دکھائی دیتا ہے کہ اردوان نہیں چاہتے تھے کہ حجاب کا معاملہ ان کی خارجہ پالیسی کی ایک بڑی ناکامی بن جائے اور باکو کے ساتھ دوستی خطرے میں پڑ جائے۔

آذربائیجان ترکی کے لیے وسطی ایشیا اور ترک دنیا تک زمینی رسائی کا دروازہ ہے۔ اس کے علاوہ روس اور ایران کے مقابلے میں قفقاز کے خطے میں انقرہ کے اثر و رسوخ کی بنیادوں میں سے ایک ہے۔

اردوان یہ بھی نہیں چاہتے کہ آذربائیجان کو آسانی سے تل ابیب کے حوالے کر دیا جائے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب صیہونی ریاست اور ترکی کے درمیان کشیدگی عروج پر ہے۔ اس کے علاوہ توانائی کی درآمدات کے حوالے سے بھی آذربائیجان ترکی کے لیے اہمیت رکھتا ہے، جبکہ آذربائیجان کی گیس اور تیل عالمی منڈیوں تک پہنچانے کے راستے بھی اسٹریٹجک اہمیت کے حامل ہیں۔

باکو سے تعلقات بچانے کے لیے اردوان نے اپنا مؤقف تبدیل کر لیا

اس طرح اردوان نے گزشتہ روز جمہوریہ ترکی کے قیام کی 103ویں سالگرہ کی تقریب کے دوران مذہبی اور اخلاقی اقدار کے حوالے سے مشکل صورت حال میں ہونے کے باوجود آذربائیجان کے ساتھ اختلافات جلد از جلد ختم کرنے کو ترجیح دی۔

اردوان نے اپنی سیاسی ترقی کا ایک حصہ انہی اقدار کے دفاع کی بنیاد پر استوار کیا تھا۔ ان میں حجاب کا دفاع بھی شامل ہے۔ ان کے دورِ حکومت میں ترکی کے تمام اداروں، حتیٰ کہ فوجی اداروں میں بھی حجاب پہننے کی اجازت منظور کی گئی تھی۔

اس کے باوجود اردوان نے آج ہونے والے ترک زبان بولنے والے ممالک کے سربراہی اجلاس سے پہلے اختلافات دور کرنے کی کوشش کی۔ اس اجلاس کو دونوں ملکوں کے درمیان بحران کے حل کا ذریعہ بننے کی امید تھی۔

اس تناظر میں سرال کو عہدے سے ہٹانا اردوان کے لیے گھونٹ بھرنے کے مترادف تھا۔ اس اقدام کے فوراً بعد انہوں نے متعدد ترک شخصیات کو گرفتار بھی کر لیا، جن کے آذربائیجان میں داخلے پر باکو پہلے ہی پابندی عائد کر چکا تھا۔

ترک زبان بولنے والے ممالک کے اجلاس میں علییف کی عدم شرکت؛ کیا بحران برقرار رہے گا؟

تاہم اس معاملے میں حیران کن بات یہ تھی کہ علییف اس اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے، جس سے اردوان نے گزشتہ دو برسوں کے دوران دونوں ملکوں کے تعلقات میں سامنے آنے والے اختلافات دور کرنے کی امیدیں وابستہ کر رکھی تھیں۔

آذربائیجان کی خبر رساں ایجنسی رپورٹ نے گزشتہ شام اعلان کیا کہ آذربائیجان کے صدر اپنی مصروفیات اور اگلے روز ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں سے متعلق پروگراموں کے باعث اجلاس میں شرکت نہیں کریں گے۔ ان کی جگہ وزیر خارجہ جیحون بایراموف اجلاس میں شرکت کریں گے۔

علییف کا یہ فیصلہ اردوان کو پسند نہیں آئے گا اور اس کے نتیجے میں دونوں ملکوں کے تعلقات ایک غیر یقینی صورت حال سے دوچار ہو سکتے ہیں۔

یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ ترکی کے صدر نے دو ہفتے سے زیادہ عرصہ قبل منعقد ہونے والے علاقائی اجلاس ’’سیکا‘‘ میں بھی ذاتی طور پر شرکت نہیں کی تھی اور اپنے وزیر خارجہ ہاکان فیدان کو اجلاس میں بھیجا تھا۔

لیبلز

آپ کا تبصرہ

You are replying to: .
captcha